’کرگل سےانڈیا نےکشمیر پر بات کی‘

پرویز مشرف
Image caption جنرل پرویز مشرف کے مطابق کرگل آپریشن سے کشمیر پر بھارت کے روے میں تبدیلی آئی

پاکستان کے سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ کرگل ایک کامیاب آپریشن تھا جس کے بعد ہی بھارت کے برتاؤ میں تبدیلی آئی اور اس نے کشمیر پر بات چیت شروع کی۔

پرویز مشرف نے یہ باتیں بھارت کے ایک نجی ٹی وی چینل سی این این آئی بی این سے بات چیت کے دوران کہی ہیں جسے بھارتی ذرائع ابلاغ میں زبردست کوریج ملی ہے۔

بھارتی صحافی کرن تھاپر کے ساتھ بات چیت کے دوران ایک سوال کے جواب میں سابق پاکستانی صدر نے کرگل آپریشن کا دفاع کرتے ہوئے اسے'' بڑی کامیابی'' سے تعبیر کیا اور کہا کہ بھارت نے اسی انیس سو نناوے کی جنگ کے بعد ہی کشمیر کے مسئلے پر بات چیت کے لیے اتفاق کیا۔

'' بالحقیقت وہ ایک بڑی کامیابی تھی کیونکہ اس کا بھارت کے برتاؤ پر بھی اثر پڑا۔ آخر ہم نے کشمیر تنازعہ پر بات چیت کیسے شروع کی؟ انڈیا نے اس بات پر اتفاق کیسے کیا کہ ہم کشمیر پر بات چیت کریں گے اورگفت و شنید سے مسئلے کو حل کریں گے؟ اس سے پہلے تو ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔''

کرگل پر مزید بات چیت میں پرویز مشرف نے کہا کہ اس سے پہلے'' کشمیر کا نام لینا بھی مشکل تھا۔ یہاں تک کہ اقوام متحدہ میں ہمارے قائدین کی طرف سے کشمیر کے ذکر پر بھی اعتراض ہوتا تھا، یہ بھارت کا برتاؤ ہوتا تھاتو پھر وہ اس مسئلے پر بات چیت کے لیے کیسے تیار ہوئے۔''

ایک سوال کے جواب میں کہ کیا وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس سے ان کی شخصیت پر سوال اٹھے تھے دوبارہ کرگل آپریشن کرنا چاہیں گے انہوں نے کہا'' میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔''

ٹی وی چینل نے ابھی اس انٹرویو کو نشر نہیں کیا ہے لیکن اس کے کچھ خاص خاص اقتباسات کو اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا ہے جسے بھارت کے ذرائع ابلاغ میں زبردست کوریج ملی ہے۔

اس انٹرویو کے مطابق جنرل مشرف نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ کرگل آپریشن میں پاکستانی فوج بھی شامل تھی جبکہ اس سے پہلے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ کرگل آپریشن کشمیری حریت پسندوں کی جانب سے کیا گیا تھا۔ تاہم جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ فوج کو صرف تیار رہنے کے احکامات تھے اور ان کا کردار '' پشت پناہی'' کا تھا۔

جنرل مشرف نے کہا کہ کرگل آپریشن سے پاکستانی فوج '' بہت ہی موافق'' پوزیشن میں تھی۔ '' کیونکہ اگر آپ انڈیا پاکستان کی بات کر رہے ہیں تو بھارت نے اپنی ساری فوج کارگل کے خلاف لگادی تھی اور اس کے نتیجہ میں دوسری جگہیں کمزور ہوگئی تھیں۔''

پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ '' توہمیں پتہ ہے کہ بھارتی فوج کیا کر سکتی ہے اور ہم میں کیا کرنے کی صلاحیت ہے۔کرگل، کشمیر اور پورے بارڈرعلاقے میں پوزیشن ہمارے حق میں موافق تھی اور ہم بھارت کے کسی بھی ایکشن کا جواب دے سکتے تھے۔''

ایک سوال کے جواب میں پرویز مشرف نے اس بات کو تسلیم کیا کہ انتخابات سے پہلے محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کے درمیان '' ایک سمجھوتہ ہوا تھا۔'' پرویز مشرف نے یہ بھی دعوی کیا کہ اگر بےنظیر بھٹو زندہ رہتیں اور وزیراعظم بنتیں تو وہ اب بھی ملک کے صدر ہوتے۔ '' ایک سمجھوتہ تھا، میں ان سے بات کی تھی اور دو دو بار بات کرتا تھا، الیکشن سے پہلے ان کو واپس نہیں آنا تھا۔''

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے متعلق ایک سوال کے جواب میں پریوز مشرف نے کہا '' گرچہ چیف جسٹس کو برخاست کرنے کا ان کا قدم قانونی اور آئينی طور پر درست تھا لیکن اس صورت حال کو سنبھالنا اتنا آسان نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان اور پیچدیگیوں میں پھنس چکا ہے اور موجودہ آصف علی زرداری کی حکومت مزید کمزور ہوگئی ہے۔

اسی بارے میں