وعدے دس برس بعد بھی ادھورے

منّی دیوی
Image caption کرگل میں مارے گئے فوجیوں کے لواحقین سے زمین ، نوکری، گیس ایجنسی ، پٹرول پمپ دیے جانے کے کئی وعدے کیے گئے تھے۔

کرگل جنگ ميں مارے گئے ہندوستانی فوجیوں کی یاد ميں جہاں ملک میں کئی مقامات پر خصوصی تقاریب منعقد کی جا رہی ہيں اور یادگاروں پر خراج عقیدت پیش کی جا رہی ہے وہيں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے لواحقین یہ شکایت کر رہے ہیں کہ ان کی کوئی نہیں سن رہا ہے۔

اس جنگ ميں مارے گئے فوجیوں میں سے سو فوجی ریاست اتراکھنڈ سے تعلق رکھتے تھے۔

دہرادون کے شانتی وہیہار علاقے میں لانس نائیک شو چرن پرساد کے گھر میں قدم رکھتے ہی غم اور سناٹے سے سامنا ہوتا ہے۔ چھ جولائی 1999 کو جب شو چرن پرساد کندھار سیکٹر میں مارے گئے تو اس وقت ان کا بیٹا صرف ایک برس دو مہینے کا تھا۔

ان کی بیوی انجو کہتی ہیں ’میرے شوہر چھٹی گزار کر گاؤں سے لوٹے تھے، کہا تھا فون کروں گا، لیکن فون تو آیا نہیں ان کی موت کی خبر ہی آئی۔‘

ان کا بیٹا شبھم آج گیارہ برس کا ہو گیا ہے لیکن وہ کہتا ہے ’میں بھی بڑا ہو کر فوج میں جاؤں گا۔‘

منجو اتھوال شہید بیوہ پنشن کی مدد سے زندگی گزار رہی ہیں۔ انہيں ایک پٹرول پمپ بھی دیا گیا ہے لیکن وہ زمین کے تنازعہ کے سبب پچھلے کچھ مہینوں سے بند پڑا ہوا ہے۔

وہ مزید کہتی ہیں ’لوگ سمجھتے ہیں کہ پٹرول پمپ مل گیا لیکن اس میں مجھے نقصان ہی ہو رہا ہے۔ میں تو اسے واپس کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘

Image caption ملک میں کئی مقامات پر کرگل کے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کی گئی

منجو اتھوال کی طرح کرگل میں مارے گئے نائیک سباب سنگھ کی بیوہ منّی دیوی شوہر کی موت کے بعد اپنے پانچ بچوں کے ساتھ رہ گئی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’ہمیں پانچ بیگھہ زمین دیے جانے کا وعدہ کیا گیا تھا، سرکاری دفتر کے چکر کاٹتے ہوئے دس برس ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک زمین نہيں دی گئی ہے۔‘

ان کے پاس موجود کاغذات میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے لے کر وزیر اعلٰی تک کے دستخط موجود ہيں لیکن ان پر عمل اب تک نہیں ہوا ہے۔

منّی دیوی غصے ميں کہتی ہیں ’ زمین کے ساتھ ساتھ بیٹے کو نوکری دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن اب وہ کہتے ہیں نوکری نہيں ہے، کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ یہ کاغذات ان کے منہ پر پھینک دوں۔‘

کرگل میں مارے گئے فوجیوں کے لواحقین سے زمین، نوکری، گیس ایجنسی، پٹرول پمپ دیے جانے کے کئی وعدے کیے گئے تھے۔ ان ميں سے کچھ پورے ہوئے اور کچھ آج بھی ادھورے ہیں۔

اسی بارے میں