’محکمہ ریلوے بند ہو سکتا ہے ‘

پاکستان کے وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے خبردار کیا ہے کہ ریلوے ان دنوں جن حالات سے دوچار ہے اگر حکومت نے ریلوے کی صورت حال پر توجہ نہ دی تو ریلوے بند ہوجائے گا۔

وفاقی وزیر ریلوے کے بقول ایسا ہوا تو یہ ایک قومی تباہی ہوگی۔

لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے غلام احمد بلور نے کہا کہ ریلوے کے جو حالات نظر آ رہے ہیں ان میں یہی لگتا ہے کہ ریلوے کا محکمہ بند ہوجائے گا۔

ان کے بقول انجنوں کی حالت اس وقت بہت خراب ہے اور اس بارے میں حکومت کو بتایا ہے اگر حکومت نے توجہ نہ دی تو ریلوے ایک دن بند ہوجائےگی

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیرغلام احمد بلور کے بقول ریلوے کے پاس اس وقت دو روز کا تیل موجود ہے اور بقول ان کے مزید تیل نہ ملنے کی صورت میں ریل گاڑیاں بند ہوجائیں گی۔

ریلوے حکام کے مطابق ریلوے کو اس وقت تین ارب سے زائد کے خسارے کا سامنا ہے اور ریلوے کی پانچ سو میں سے تین سو انجن خراب پڑے ہیں۔

وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے تشویش کا اظہار کیا کہ ریلوے تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے اور ریلوے کی بند ہونے کی صورت میں ریلوے کے ایک لاکھ ملازمین کا مستقبل کیا ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ ریل گاڑیوں میں ائیر کنڈیشنرز کو چلانے کے لیے ریلوے کو کم ازکم چھالیس پاور ویگیز درکا ہیں لیکن بقول ان کے ریلوے کی بیشتر پاور ویگنز ناکارہ ہیں۔ انہوں نے بتایا جو گیارہ بارہ پاور ویگنز کام کررہی ہیں وہ بھی کچھ فاصلے کے بعد بند ہوجاتی ہیں۔

وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے افسوس اظہار کیا ہے کہ ریلوے کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے حکومت سے گیارہ ارب کی رقم مانگی تھی اور وفاقی کابینہ نے اس رقم کی منظوری بھی دے دی گئی لیکن بقول ان کے’ اللہ کی مہربانی سے آج تک ایک پیسہ بھی نہیں ملا۔‘

غلام احمد کے بقول ریلوے کو اس وقت سب سے بڑا مسئلہ انجنوں کی کمی ہے۔ وزیر ریلوے نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر ریلوے کو کچھ فنڈز مل جائیں تو ریلوے کی حالت بہتر ہوجائے گی۔

ادھر ریلوے کے ریٹائر ہونے والے ملازمیں پیشن نہ ملنے کی وجہ سے احتجاج کر رہے ہیں جبکہ انجن خراب ہونے کے باعث ریل گاڑیوں کے اوقات کار میں تاخیر ایک معمول بنتی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں