چیک پوسٹ پر افغانستان سےگولہ باری

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کے مطابق ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر افغانستان کی جانب سے داغے گئے دو گولے لگنے سے چار اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

وانا میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگاردلاور خان وزیر کو بتایا کہ اتوار اور پیر کی درمیانی رات تحصیل برمل کے علاقے انگور اڈہ میں ایک پہاڑی چوٹی پر واقع سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر افغانستان کے حدود سے داغے گئے دو گولے گرے ہیں جس کے نتیجہ میں چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

اہلکار کے مطابق گولےگرنے کے بعد دو زودار دھماکے ہوئے جس سے چیک پوسٹ مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ زخمی ہونے والے سکیورٹی فورسز کے چاروں اہلکاروں میں سے دو کا تعلق وزیرستان سکاؤٹس فورس اور دو کا فوج سے بتایا جاتا ہے جوگزشتہ کچھ عرصے سے پاک افغان سرحد کے نگرانی کے لیے تعینات تھے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی لیکن اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق اس واقعہ سے دو دن پہلے انگور اڈہ چیک کے قریب شہ زور گاڑی میں سوار ایک خودکُش حملہ آور کو سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا اور بعد میں گاڑی دھماکوں سے تباہ ہوگئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق گاڑی میں دھماکے اتنے زوردار تھے کہ انگور اڈہ بازار میں دوکانوں کی شیشے ٹوٹ گئے تھے۔

یاد رہے کہ انگور اڈہ بازار بالکل افغان سرحد کے اوپر واقع ہے جس سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں مچاداد نامی کوٹ میں امریکی فوجیوں کا مرکز بھی ہے۔

اس کے علاوہ انگور اڈہ بازار سے تقریباً پانچ سو میٹر کے فاصلے پر افغان نیشنل فورس کی ایک چیک پوسٹ بھی موجود ہے جس پر تعینات اہلکاروں کے ساتھ کئی بار پاکستانی فورسز کی جھڑپیں بھی ہوئی ہیں جس میں دونوں طرف سے ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

واضح رہے کہ دو دن پہلے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں افغانستان سے آنے والے شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کے سات چیک پوسٹوں پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجہ میں بتیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔حکام کے مطابق جوابی کاروائی میں بیس شدت پسند بھی مارے گئے تھے۔